Tuesday, February 22, 2011

مستقبل کی فصل کے لیے ماضی کے جینز



دورِ حاضر میں فصلیں کئی گنا پیداواری صلاحیت رکھتی ہیں
انسانی خوراک میں اضافے کے لیے ماہرینِ نباتات اب پودوں کی قدیم نسلوں پر انحصار کر رہے ہیں اور امریکی محققین کا کہنا ہے کہ وہ چاول اور مکئی جیسی فصلوں کی قدیم اقسام کے جینز استعمال کر کے مستقبل کے لیے سخت جان اور بیماریوں کے خلاف زیادہ قوتِ مدافعت رکھنے والی فصلوں کی تیاری پر کام کر رہے ہیں۔
واشنگٹن میں منعقدہ سائنسی ترقی کی امریکی ایسوسی ایشن کے اجلاس میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ ایسی فصلیں اگانا چاہتے ہیں کہ جو سیلاب اور قحط کا مقابلہ کر سکیں اور ان کے لیے زیادہ کھاد بھی درکار نہ ہو۔
سائنسدانوں نے دعویٰ کیا کہ چاول، گندم اور مکئی کی قدیم اقسام میں ایسے جین ملے ہیں جن کی مدد سے ان فصلوں کی موجودہ اقسام کی، بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت بڑھائی جا سکتی ہے۔
کئی نسلی تبدیلیوں کے بعد دورِ حاضر میں انسانی خوراک کی فصلیں، کئی گنا پیداواری صلاحیت رکھتی ہیں۔ لیکن جدید جینیاتی تکنیک نے ثابت کر دیا ہے، کہ محض پیداواری صلاحیت پر توجہ دیتے ہوئے، انسانوں نے فصلوں کی ایسی جینیاتی صلاحیتوں کو متاثر کر دیا، جو دورِ حاضر کی اہم ضرورت ہیں۔
پرانے جینز کو دورِ حاضر کی فصلوں کی اقسام کے جینز کے ساتھ ملا کر باصلاحیت فصلوں کا حصول، مستقبل کا ایک بڑا چیلنج ثابت ہو گا۔
ائین گراہم
چاول کی قدیم اقسام کا مطالعہ کرنے والے محققین کو پتہ چلا ہے کہ قدیم دور کے چاول میں بیماریوں کا مقابلہ کرنے، اور سیلاب اور خشک سالی جیسی آفات کو برداشت کرنے کی صلاحیت نسبتاً زیادہ تھی۔ ایک محقق، پروفیسر ائین گراہم کا خیال ہے کہ قدیم فصلوں کے جین کے ذریعے دورِ حاضر کی اقسام کی خصوصیات بحال کی جا سکتی ہیں۔
ان کے مطابق’جب ہماری آج کل کی خوراک پر نظر ڈالی جائے تو ان میں گندم، مکئی اور سویا بین عام ہیں۔ دورِ حاضر میں ہمارے پاس ان فصلوں کا بڑا محدود جینیاتی ڈھانچہ ہے۔ لیکن اگر ہم قدیم دور کی جنگلی پودوں کے جین دیکھیں، تو اُن میں بیرونی مداخلت کے بغیر ہی، بہتر افزائش کی صلاحیت تھی۔ اِن پرانے جینز کو دورِ حاضر کی فصلوں کی اقسام کے جینز کے ساتھ ملا کر باصلاحیت فصلوں کا حصول، مستقبل کا ایک بڑا چیلنج ثابت ہو گا‘۔
سائنسدانوں کی یہ بھی کوشش ہے کہ وہ نئے اور پرانے جینز کے امتزاج سے فصلوں کی ایسی اقسام تیار کریں جنہیں کم سے کم کھاد کی ضرورت پڑے، تاکہ غریب کسانوں کے اخراجات کم ہو سکیں اور ماحول کو آلودہ ہونے سے بھی بچایا جا سکے۔

No comments:

Post a Comment