Thursday, March 10, 2011

جی ایچ کیو کی سیاست ناپائیدار‘


تجزیہ نگاورں کا کہنا ہے کہ مسٹر قریشی کو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے مدِ مقابل ایک نئی سیاسی شخصیت کے طور پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
پاکستان کے سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور حکمران حماعت پیپلز پارٹی کے درمیان خلیج بڑھ رہی ہے اور انہوں نے ایک بار پھر اپنی پارٹی کی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔
شاہ محمود قریشی نے اپنی حکومت کے خلاف اس وقت محاذ کھولا جب نئی وفاقی کابینہ میں ان وزیرِ خارجہ نہیں بنایا گیا۔ حالانکہ ابھی تک کسی کو وزیرِ خارجہ مقرر نہیں کیا گیا لیکن شاہ محمود قریشی کی واپسی کے امکانات بہت کم نظر آ رہے ہیں۔
انہوں نے نے منگل کے روز قومی اسمبلی میں امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس معاملے پر پیپلز پارٹی کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ریمنڈ ڈیوس کے معاملے کو بگاڑا گیا اور وہ اُن افراد کے نام بھی جانتے ہیں جو اس کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا اگر اُنہیں اس بات پر مجبور کیا گیا تو پھر وہ اُن افراد کے نام بھی بتادیں گے جنہوں نے ریمنڈ ڈیوس کے معاملے کو بگاڑنے میں کردار ادا کیا۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ شاہ محمود قریشی نے پیپلز پارٹی کی حکومت پر تنقید کی ہے۔ اس سے پہلے انہوں نے ملتان میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا اگر ملک میں قیادت ایماندار ہو گی تو ملک میں ترقی ہوگی۔
اس سے پہلے انہوں نے سترہ فروری کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ وزراتِ خارجہ نے انہیں بریفنگ دی تھی اور بتایا تھا دو پاکستانی شہریوں کو قتل کرنے والے امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس کو ملکمل سفارتی استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔
شاہ محمود قریشی کی اپنی پارٹی کی قیادت سے دوری بڑھتی جا رہی ہے اور بعض تجزیہ نگاورں کا کہنا ہے کہ ان کو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز لیگ کے مدِ مقابل ایک نئی سیاسی شخصیت کے طور پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انیس سو اٹھاسی میں پیر پگاڑہ نے پیپلز پارٹی کے خلاف انتخابات لڑا تھا تو ان کے مریدوں نے بھی ان کا ساتھ نہیں دیا تھا
وفاقی اردو یونی ورسٹی کے پروفیسر توصیف احمد کہتے ہیں ’کچھ ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ شاہ محمود قریشی کو آئندہ مہینوں میں ایک متوازن شخصیت کے طور پر پیش کرنے جا رہی ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ ان کا تضاد نہ صرف پیپلز پارٹی بلکہ مسلم لیگ نواز سے ہو گا۔‘
انہوں نے مزید کہا ’اس وقت جو ملکی صورتِحال ہے اس میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ سے علیحدہ ہونے والے کےلیے اب تک تو کوئی مستقبل نہیں رہا اس لیے اس بات کے امکان نہیں ہیں کہ وہ سیاست میں کوئی اہم کردار ادا کر سکیں گے۔‘
پروفیسر توصیف کے مطابق یہ بات بہت واضع ہے کہ شاہ محمود قریشی جی ایچ کیو سے حرارت لے کر سیاست کر رہے ہیں اور یہ سیاست بہت زیادہ پائیدار نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے کہا ’ذوالفقار علی بھٹو نے بھی تاشقند معاہدہ کے خلاف آواز اٹھائی تھی اور تاریخ نے ان کی اس بات کو غلط ثابت کیا کہ تاشقند معاہدے میں کوئی ایسی غلط بات نہیں تھی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی نے بھی ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر متنازعہ پیدا کر کے ایک جذباتی فضا کو کیش کرانے کی کوشش کر رہے اور کبھی ملکی قیادت پر تنقید کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق جب انیس سو اٹھاسی میں پیر پگاڑہ نے پیپلز پارٹی کے خلاف انتخابات لڑا تھا تو ان کے مریدوں نے بھی ان کا ساتھ نہیں دیا تھا اور اگر شاہ محمود قریشی ایسا کریں گے تو ان کے ساتھ بھی ایسا ہوگا۔
کراچی یونی ورسٹی کے پروفیسر شمیم اختر کا کہنا ہے کہ شاہ محمود قریشی اور پیپلز پارٹی کے درمیان خلیج اتنی بڑھ گئی ہے اور ان کی دوبارہ وزارتِ خارجہ میں واپسی ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے کہا ’میں سمجھتا ہوں کہ شاہ محمود قریشی کو دوبارہ وزیرِ خارجہ بنانا شاید پیپلز پارٹی کےلیے قابل قبول نہیں ہے کیونکہ پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت آئی ایس آئی کے زیادہ امریکہ کہ تابع ہے اور غالباً آئی ایس آئی اور پیپلز پارٹی کے قیادت میں کشمکش کا سبب بھی یہی ہے کہ یہ امریکہ کی طرف زیادہ دیکھتے ہیں۔‘
بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ شاہ محمود قریشی کی پیپلز پارٹی سے علیحدگی پارٹی کے لیے دھچکا ثابت ہوگی۔ کیونکہ ان کے بقول جنوبی پنجاب اور صوبہ سندھ میں شاہ محمود کے ہزاروں مرید ہیں اور آج بھی سندھ کے شمالی شہرگھوٹکی سے جنوب میں عمر کوٹ تک بعض حلقے ایسے ہیں جہاں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو جیتنے کے لیے شاہ محمود قریشی کی ’چِٹھی، دعا اور دوا‘ درکار ہوتی ہے

No comments:

Post a Comment