Thursday, January 5, 2012

ججوں جرنیلوں سمیت تمام ملازمین اثاثے ظاہر کریں



آخری وقت اشاعت:  بدھ 4 جنوری 2012 ,‭ 16:09 GMT 21:09 PST
پاکستان کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ججوں اور جرنیلوں سمیت جو بھی ملازمین سرکاری خزانے سے تنخواہ لیتے ہیں وہ اپنے سالانہ اثاثے عوام کے سامنے ظاہر کریں اور اس بارے میں متعلقہ قانون میں ترمیم کی جائے گی۔
یہ فیصلہ بدھ کو وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا اور کابینہ کے فیصلوں کے بارے میں بریفنگ کے دوران وزیِر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ یہ فیصلہ کسی فرد کے خلاف نہیں بلکہ سیاستدانوں کے ساتھ سب کا یکساں احتساب کرنے کی خاطر کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ (ق) کی رکن ڈاکٹر دونیہ عزیز نے قومی اسمبلی میں نجی کارروائی کے دن ’سوّل سرونٹس ایکٹ‘ میں ترمیم کے لیے دو تجاویز دی تھیں جس پر یہ بل کابینہ کو بھیجا گیا اور کابینہ نے غور کے بعد ان کی ایک تجویز مسترد کردی اور ایک منظور کر لی ہے۔
وزیرِ اطلاعات کے مطابق بل کی جو تجویز مسترد کی گئی وہ گریڈ سولہ سے اوپر کے ملازین کی ترقیوں کے معاملات میں پارلیمان کے کردار کے بارے میں تھا۔ جس پرکابینہ نے کہا کہ کہ ترقیوں کے لیے قوانین کے مطابق سلیکشن بورڈ بنتے ہیں اور وزیراعظم کا یہ انتظامی اختیار ہوتا ہے لیکن ان کے بقول سیاستدانوں کی طرح سرکاری خزانے سے تنخواہ لینے والے تمام افسران کو اپنے اثاثے ظاہر کرنے کا پابند بنانے کی تجویز منظور کرلی گئی۔
اسلام آباد میں نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ بظاہر تو حکومت کہتی ہے کہ یہ فیصلہ کسی کے خلاف نہیں لیکن اگر دیکھا جائے تو یہ متنازعہ میمو کے معاملے پر حکومت کے فوجی قیادت اور عدلیہ سے اختلافِ رائے کے بعد سامنے آیا ہے۔ خود وزیراعظم کہتے رہے ہیں کہ سیاستدانوں کو کرپٹ کہا جاتا ہے مگر کیا فوجی آمر کرپٹ نہیں ہوتے؟
اطلاعات کی وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ پاکستان میں گیس کی قلت دور کرنے کی خاطر جو عالمی منصوبے ہیں، ان پر فوری عمل کیا جائے۔ انہوں نے ایران کا ذکر تو نہیں کیا لیکن وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ ایران سے گیس خریدنے پر کوئی پابندی نہیں لگا سکتا کیونکہ جو یورپی یونین کی ایران کے بارے میں پابندیاں ہیں یہ منصوبہ ان کے دائرے میں نہیں آتا۔
واضح رہے کہ ستائیس دسمبر کو صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے بینظیر بھٹو کی چوتھی برسی کے موقع پر کہا تھا کہ پاکستان جنگ کا تھیٹر نہیں بن سکتا اور ایران سے اپنی قوم کی خاطر وہ ضرور گیس خریدیں گے جس کے بعد وہائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا تھا کہ ایران پر امریکی اور عالمی پابندیوں کے بعد پاکستان ایسا نہیں کرسکتا۔
وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ پاکستان میں (عدالتی فیصلوں کے بعد ) یہ طے ہے کہ جس صوبے سے گیس نکلتی ہے پہلے اُس پر اس کا حق ہوتا ہے۔ ان کے بقول یہی وجہ ہے کہ پنجاب کی نسبت دیگر صوبوں میں گیس کی قلت کم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گیس کی کل ملکی پیداوار میں سندھ کا حصہ انہتر فیصد ہے جبکہ ان کی ضرورت اکتالیس فیصد ہے۔ بلوچستان سے سترہ فیصد گیس ملتی ہے اور ان کی ضرورت سات فیصد ہے۔ خیبر پختونخوا سے نو فیصد گیس ملتی ہے اور ان کی ضرورت سات فیصد ہے۔ جبکہ پنجاب سے صرف پانچ فیصد گیس نکلتی ہے اور کھپت پینتالیس فیصد ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ کابینہ میں فیصلہ ہوا ہے کہ گھریلو صارفین کو ترجیحی بنیاد پر گیس فراہم کی جائے گی۔ ان کے بقول پاکستان میں گھریلوں صارفین کی ضرورت سترہ فیصد ہے، بجلی گھروں کی ستائیس فیصد، فرٹیلائیزر صنعت پچیس فیصد، گیس سٹیشنز دس فیصد اور باقی صنعتی اور دیگر شعبوں کے لیے گیس استعمال ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن والے گیس کی قلت پر سیاست کر رہے ہیں حالانکہ صنعتی کنیکشن منظور ہی اس شرط پر کیا جاتا ہے کہ دسمبر سے فروری تک تین ماہ انہیں گیس نہیں ملے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں تمام صوبوں اور ’سٹیک ہولڈرز‘ سے وزیرِ پیٹرولیم کی سربراہی میں قائم کمیٹی بات کر کے ایک ہفتے میں کابینہ کو رپورٹ کرے گی کہ کوئی حل نکالا جائے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ سال دسمبر کی نسبت رواں سال دسمبر میں مہنگائی کم ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے چینی کی مصنوعی قلت کو روکنے اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی خاطر سوا چھیالیس روپے فی کلو چینی شگر ملز سے خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

No comments:

Post a Comment