Friday, February 11, 2011

کابینہ نابینا اور آنکھوں والے وزیر شذیر



ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ 3 گھنٹے 40 منٹ پہلے شائع کی گئی
وزیراعظم نے کابینہ تحلیل کر دی ہے۔ صدر زرداری نے گول میز کانفرنس بلا لی ہے۔ یہ دونوں باتیں ایسی ہیں کہ جن سے تہلکہ مچ گیا ہے۔ میں نے کل کے کالم میں گول میز کانفرنس کو گول مول کانفرنس کہا تھا۔ آج ایک مزاحیہ شعر مجھے یاد آتے آتے رہ گیا ہے اس میں کہا گیا کہ کابینہ کو تحلیل کیا گیا کہ اکثر وزیر شذیر نابینا تھے۔ کابینہ اور نابینا کے قافیے نے بڑا کیف دیا ہے۔ ایک نابینا نے وزیر بننے کا مطالبہ کر دیا۔ پوچھا گیا کہ تم تو اندھے ہو۔ کیا کرو گے؟ اس نے کہا کہ ”میں انھی پا دیاں گا“ اسے کہا گیا ابھی آنکھوں والوں کو تو فارغ ہو لینے دو۔ کچھ وزراءبہت آنکھیں رکھتے تھے۔ ساری کابینہ کو توڑنے کی کیا ضرورت تھی۔ اس سے اہل اور نااہل کی تفریق نہیں رہی۔ سب کو ایک لاٹھی سے ہانکنے کی کوشش ہوئی ہے۔ لاٹھی کو ڈنڈا بھی کہتے ہیں۔ ”ڈنڈا پیر ہے وگڑیاں تگڑیاں دا“ وزیراعظم گیلانی پیر تو ہیں۔ مگر ہیں بہت شریف آدمی۔ 
کسی وزیر کو گیلانی صاحب نے ڈانٹا بھی نہ ہو گا جب کہ کچھ وزیر شذیر تھے جن کو بنچ پر دیوار کی طرف منہ کرکے کھڑا کرنے کی ضرورت تھی۔ چند ایک جو کچھ کر کرا رہے تھے۔ انہیں کان پکڑوانے کا حکم دیا جا سکتا تھا۔ وہ یہ بھی کر گزرتے کہ جو کچھ وزیر بن کے مزا آتا ہے اس کے لئے کچھ بھی برداشت کیا جا سکتا ہے۔ کچھ ایسے بھی تھے کہ انہیں کان پکڑنے کے لئے کہا جاتا تو وہ وزیراعظم گیلانی کے کان پکڑ لیتے۔ انہیں دیکھ کے پوری قوم اپنے کان پکڑ کے توبہ توبہ کرتی رہی۔ مگر شاید توبہ کا دروازہ بند ہو گیا ہے۔ آج کل دعا بھی قبول نہیں ہوتی۔ اب تو ستم زدگان کی بددعا بھی قبول نہیں ہوتی۔ ورنہ یہ کابینہ کچھ دیر پہلے تحلیل ہو گئی ہوتی۔ اصل میں وزیراعظم گیلانی مروت والے آدمی ہیں۔ مستعفی ہونے والے وزراءکی مایوسی دیکھ کر اور رفاقت کا خیال کرکے وہ آب دیدہ ہو گئے۔ کچھ دوسروں نے بادل نخواستہ استعفے دیئے۔ یہ استعفے لئے گئے تھے۔ ہمارے ملک میں استعفیٰ دینے کا رواج نہیں۔ یہ رواج مسلمان ملکوں میں بھی نہیں ہے۔ صدر حسنی مبارک ابھی تک کس ڈھٹائی سے ایوان صدر میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ دوڑ جاتے ہیں یا نکالے جاتے ہیں۔؟ 
میانوالی قریشیاں ضلع رحیم یار خاں کے وزیر مخدوم شہاب نے استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا۔ ڈاکٹر بابر اعوان اور قمر الزمان کائرہ سے کہا کہ تم فوجی ہو۔ اس کا خیال ہو گا کہ یہاں صرف فوجی ہی استعفی لیتے ہیں۔ مگر نواز شریف نے اٹک قلعہ میں جنرل محمود کی بدتمیزی کے باوجود استعفیٰ نہیں دیا تھا۔ استعفیٰ تو صدر رفیق تارڑ نے بھی نہیں دیا تھا۔ نواز شریف کو جلاوطن کیا گیا اور رفیق تارڑ کو گھر بھیج دیا گیا۔ ڈاکٹر بابر اعوان اور قمر الزمان کائرہ نے بھی استعفیٰ دیا ہے مگر مخدوم شہاب نے سمجھا کہ وہ صرف استعفی لے رہے ہیں۔ دونوں نے جواب دیا کہ ہم فوجی نہیں حوالدار ہیں۔ فوج میں حوالدار ہوتا ہے مگر اس کے پاس حوالات نہیں ہوتی۔ یہ دونوں ڈائریکٹ حوالدار ہیں۔ ان دونوں کے لئے یقین ہے کہ دوبارہ وزیر بن رہے ہیں۔ مجھے تو دو چار کے علاوہ کسی وزیر کا نام بھی نہیں آتا۔ مگر انہوں نے بھی سیاسی طور پر کوئی کارکردگی دکھائی ہے۔ اس کے علاوہ کئی وزیروں نے یہ کام بھی نہیں کیا۔ یہ کام بھی ان لوگوں نے کیا ہے جو وزیر وغیرہ نہ تھے۔ فوزیہ وہاب خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ سنا ہے وہ وزیر بنائی جا رہی ہیں۔ وہ وزیر نہ رہ کے اتنی مستعد ہیں تو وزیر بن کے کچھ نہ کچھ تو کر دکھائیں گی۔ کائرہ صاحب نے کہا ہے کہ کابینہ چھوٹی ہو گی۔ صرف 49 وزیر ہوں گے۔ ایک اور وزیر کے بعد پورے 50 ہو جائیں گے۔ ایک آدمی نے اپنے مہمان کے لئے پوری 50 روٹیاں پکائیں وہ بڑا ناراض ہوا۔ اس نے کہا اوئے تو نے مجھے پیٹو سمجھا ہوا ہے۔ ایک اٹھا لے۔ آہستہ آہستہ کابینہ اسی مقام اور مقدار پر آ کھڑی ہو گی جہاں کھڑی تھی۔ اور لوگ سوچ رہے ہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ وزیروں کو کرسی سے بڑا پیار ہوتا ہے۔ ہمارے میانوالی کا ایک ایم پی اے جب واش روم جانے لگا تو اپنی ٹوپی کرسی پر چھوڑ گیا کسی نے پوچھا تو کہا کہ کیا پتہ کوئی خالی کرسی دیکھ کر بیٹھ جائے تو پھر میں کیا کروں گا؟ 
آصف ہاشمی پیپلز پارٹی کے بانی ارکان میں سے ہیں۔ وہ بھی وزیراعظم گیلانی کی طرح مرنجاں مرنج شخصیت کے مالک ہیں۔ وزیراعظم گیلانی کے بہت دوست اور مداح ہیں وہ گیلانی صاحب سے کہتے رہتے ہیں کہ کچھ کام بہت پہلے کرنے والے ہوتے ہیں۔ پارٹی ڈسپلن اور حکومت کی کارکردگی کے لئے کئی اقدامات اٹھانے چاہئیں کسی نے مجھ سے پوچھا تھا کہ آصف ہاشمی اور جاوید ہاشمی میں کیا رشتہ ہے؟ مولانا فضل الرحمان نے بظاہر نئی کابینہ میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ انہیں اپوزیشن میں پوزیشن بنانے کا ہنر آتا ہے۔ بابر غوری نے بھی انکار کر دیا ہے۔ جے یو آئی اور ایم کیو ایم میں آج کل یہ کیسا اشتراک ہے؟ نواز شریف بھی حیران ہیں کہ وہ بھی نئی کابینہ میں نہیں ہوں گے۔ تو یہ کیسا اشتراک ہے۔ بہرحال آصف ہاشمی کہتے ہیں کہ کابینہ کی تحلیل اور گول میز کانفرنس دونوں بڑے اقدام ہیں۔ مجید نظامی نے نظریہ پاکستان کانفرنس میں گول میز کانفرنس کو گول مال کانفرنس کہا ہے۔ سیاست دانوں کے لئے نظریہ پاکستان کانفرنس میں شرکت لازمی ہونی چاہئے تھی۔ !

No comments:

Post a Comment