Wednesday, February 16, 2011

شیری کیخلاف درخواست پر کارروائی کریں‘


شیری رحمان نے حال ہی میں توہینِ رسالت کے قوانین میں ترمیم کے اپنے بل کی پیروی نہ کرنے کا اعلان کیا تھا
ملتان میں ایک مقامی عدالت نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ پیپلز پارٹی کی سابق وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان کے خلاف اس درخواست پر کارروائی کی جائے جس میں ان پر مذہبی معاملے میں توہین آمیز رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
ملتان کے ایک تاجر فہیم اختر گل نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ تیس نومبر سنہ دوہزار دس کو پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ’دنیا مرے آگے‘میں شیری رحمان نے توہین رسالت کی سزا پر گفتگو کی اور ایسے الفاظ استعمال کیے جو توہین پر مبنی ہیں۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اس نے اس سلسلے میں مقدمہ کے اندارج کے لیے ملتان کے تھانہ چلیک میں درخواست دی لیکن پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا اس لیے عدالت مقدمے کے اندارج کے احکامات جاری کرے۔
سماعت کے دوران ملتان میں انسانی حقوق کمیشن کے عہدیدار راشد رحمان ایڈووکیٹ شیری رحمان کی طرف سے عدالت میں پیش ہوئے انہوں نے اپنے دلائل میں کہا کہ اول تو ایسا کچھ وقوع پذیر نہیں ہوا اور پھر جس ٹی وی پروگرام کی بات کی جارہی ہے وہ نہ تو ملتان میں ریکارڈ ہوا اور نہ ہی ملتان سے آن ائر گیا۔
ایڈیشنل سیشن جج مہر ناصر حسین نے اپنے فیصلے میں مقامی تھانے کو ہدایت کی ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ ایک سو چون کے تحت مدعی کا بیان درج کیا جائے جس کامطلب ہے کہ عدالت نے ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔
وکیلِ صفائی
مقامی تھانے کے ایس ایچ او یوسف ہارون نے بھی عدالت میں اپنی تحریری رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ واقعہ ان کےتھانے یا ملتان کی حدود میں پیش نہیں آیا اس لیے مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ راشد رحمان نے بی بی سی اردو کے علی سلمان کو بتایا کہ اس کے باوجود عدالت نے مقدمہ کے اندراج کے احکامات جاری کیے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ایڈیشنل سیشن جج مہر ناصر حسین نے اپنے فیصلے میں مقامی تھانے کو ہدایت کی ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ ایک سو چون کے تحت مدعی کا بیان درج کیا جائے جس کامطلب ہے کہ عدالت نے ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔
مقامی تھانے کے محرر نے بی بی سی کو بتایا کہ ابھی تک انہیں مقدمے کے اندارج کے حوالے سے عدالت کے احکامات موصول نہیں ہوئے ہیں اور صرف وکلاء اور میڈیا کے نمائندوں کے فون ہی آرہے ہیں۔
ماربل کا کاروبار کرنے والے مدعی فہیم اختر گل نے ٹیلی فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مقدمہ کے لیے کارروائی شروع کرنے سے پہلے تمام مکتبہ فکر کے علماء سے فتویٰ حاصل کیے تھے اور تھانے میں درخواست دی تھی۔
یہ پروگرام اسلام آباد سے نشر ہوا اور پورے پاکستان میں دیکھا گیا۔اگر پروگرام دیکھنے کو مقدمے کے اندارج کی وجہ مان لیا جائے تو پھر کسی بھی پروگرام پر پورے پاکستان میں جگہ جگہ مقدمات درج ہونا شروع ہوجائے گا۔
راشد رحمان
مدعی نے کہا کہ انہوں نے تھانے میں درخواست دینے کے علاوہ سٹی پولیس چیف اور ایس ایس پی آپریشنز ملتان کے دفتر میں تحریری درخواست دی تھی۔ایک درخواست وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف اور ایک انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس کو بھیجی تھی لیکن مقدمہ درج نہیں ہوا جس پر انہیں عدالت سے رجوع کرنا پڑا۔
مدعی نے کہا کہ انہیں فیصلے کی نقل مل گئی ہے اور وہ جلد ہی اپنے وکلاء کے ہمراہ تھانے جاکر ایف آئی آر درج کرادیں گے۔
راشد رحمان ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’یہ پروگرام اسلام آباد سے نشر ہوا اور پورے پاکستان میں دیکھا گیا۔اگر پروگرام دیکھنے کو مقدمے کے اندارج کی وجہ مان لیا جائے تو پھر کسی بھی پروگرام پر پورے پاکستان میں جگہ جگہ مقدمات درج ہونا شروع ہوجائے گا‘۔
انہوں نے کہا کہ پھر عجیب بات یہ بھی ہے کہ جس پروگرام کی مبینہ باتوں کے خلاف بات کی جارہی ہے اس پروگرام کے میزبان یا منتظیمین کے بارے میں مدعی نے کوئی اعتراض ہی نہیں کیا۔
خیال رہے کہ پیپلز پارٹی کی رکنِ قومی اسمبلی شیری رحمان نے ایوان میں نجی کارروائی کے دن ذاتی حیثیت میں ایک ترمیمی بل پیش کیا تھا جس میں ناموسِ رسالت کے قانون کے غلط استعمال کو رکوانے کے لیے تجاویز پیش کی گئی تھیں۔ بعد میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا تھا کہ اس بل کا پارٹی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان کے کہنے پر شیری رحمان بل واپس لینے پر تیار ہوگئی تھیں۔

No comments:

Post a Comment