Saturday, January 29, 2011

صدر اوباما کا خطاب ۔۔۔ !


صدر اوباما کا خطاب ۔۔۔ !

طیبہ ضیاء ـ 18 گھنٹے 43 منٹ پہلے شائع کی گئی
دانشور کہتے ہیں کہ خواتین کی خاموشی خطرناک ہوتی ہے۔کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے جبکہ ایک رائے یہ بھی پائی جاتی ہے کہ خواتین کے خاموش رہنے میں ہی عافیت ہے۔ ایک امریکی خاتون اپنے شوہر کی بدمزاجی کی وجہ سے نفسیاتی دباﺅ کا شکار رہنے لگی۔ اس نے ڈاکٹر کو بتایا کہ اس کا شوہر گھر داخل ہوتے ہی اس کے ساتھ بدزبانی شروع کر دیتا ہے جس کی وجہ سے گھر کا ماحول دہشت گردی کی جنگ کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔ ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ تمہارا شوہر جونہی گھر میں داخل ہو، تم باتھ روم میں گھس جایا کرو اور قریباً پندرہ منٹ تک ٹوتھ برش کیا کرو۔ دو ہفتے تک یہ عمل کرو اور پھر نتائج سے آگاہ کرنا۔ خاتون نے ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل کیا اور دو ہفتے بعد ڈاکٹر کے پاس گئی اور حیران ہوتے ہوئے رپورٹ دی کہ اس کا شوہر خلاف توقع بہتر ہو رہا ہے۔ خاتون نے ڈاکٹر سے پوچھا کہ وہ ٹوتھ برش کا یہ عمل مزید کتنا عرصہ جاری رکھے؟ ڈاکٹر نے کہا کہ تمہارے شوہر کی بدمزاجی میں بہتری تمہارے ٹوتھ برش کرنے سے نہیں بلکہ پندرہ منٹ تک تمہاری زبان بند رہنے کی وجہ سے آئی ہے جو اسے گھر داخل ہوتے ہی نصیب نہیں ہوتی تھی ۔۔۔ پندرہ منٹ تک کی خاموشی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے مگرخواتین کی مستقل خاموشی تشویشناک ہو تی ہے۔ ریاست کیلی فورنیا میں ایک باون سالہ خاتون کی قوت گویائی لوٹ آئی ہے۔ اٹھارہ گھنٹے کے طویل آپریشن کے بعد بولنے کی قوت بحال ہو گئی ہے۔ ڈاکٹر نے میڈیا کو بتایا کہ عرصہ پہلے خاتون کے گلے کا نرخرہ خراب ہو گیا تھا جس کی وجہ سے قوت گویائی سے محروم ہو گئی تھی مگر نرخرہ تبدیل کرنے کا تجربہ کامیاب رہا جو کہ سائنس کی تاریخ میں اس قسم کا دوسرا حیران کن کیس ہے۔ میڈیا نے خاتون کے شوہر کے جذبات کے بارے میں خاموش رہنا مناسب سمجھا ۔۔۔ سائنس میں ایسی حیران کن کامیابیاں امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں ہی ممکن ہو سکتی ہیں ۔۔۔ صدر اوباما امریکہ میں سائنس میں مزید ترقی کے متمنی ہیں۔ انہوں نے اپنی حالیہ تقریر میں جدید تعلیم، ٹیکنالوجی اور نئی ایجادات کے رحجان پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ان شعبوں میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ ہمیں سائنس کے ہر شعبے میں ترقی کی ضرورت ہے۔ صدر اوباما نے سٹیٹ آف دی یونین سے سالانہ خطاب میں مستقبل کی منصوبہ بندی اور گزرے سال کی کارکردگیوں پر روشنی ڈالی جس میں اندرون و بیرون ملک پالیسیوں، نتائج اور ان میں مزید اصلاحات پر بات کی۔ امریکہ میں تعلیم کے حوالے سے نئی نسل کو کالج کی تعلیم حاصل کرنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں اکثریت ہائی سکول کے بعد تعلیم کا سلسلہ ختم کر دیتی ہے یا کوئی ڈپلومہ حاصل کر لیتی ہے جبکہ کالج ڈگری ہولڈر امریکیوں کی تعدادکم ہے۔ تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ہال میں بیٹھی ایک خاتون کا حوالہ دیتے ہوئے بتایاکہ اس باہمت خاتون نے پچپن برس کی عمر میںکالج کی ڈگری حاصل کرکے اپنے بچوں پر ثابت کر دیا کہ تعلیم حاصل کرنے کے لئے نہ عمر کی قید ہے اور نہ ہی کوئی دولت، تعلیم کی دولت سب سے زیادہ قیمتی ہے۔ صدر اوباما نے کہا کہ والدین کو چاہےے کہ وہ بچوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا شوق پیدا کریں۔ کھیلوں سے زیادہ سائنس اور حساب میں دلچسپی کی ضرورت ہے۔ والدین اور اساتذہ بچوں میںسائنس، حساب اور ٹیکنالوجی کے میدان میں حوصلہ افزائی کریں۔ تعلیم کے پیشے کو اپنانے کا رحجان بھی پیدا کریں تاکہ اس ملک کو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار استاد میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انسان میں محنت اور جذبہ ہو تو امریکہ میں آگے بڑھنے کے تمام مواقع موجود ہیں۔ اس موضوع پر بات کرتے ہوئے اوباما نے اپنی پچھلی نشست پر بیٹھے سپیکر آف دی ہاﺅس جان بونر کی مثال دی کہ اس ملک میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اپنی قوت بازو پر آج حکومت کے اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں ۔۔۔ امریکہ میںصدر اور نائب صدر کے بعد تیسرا پاور فل عہدہ سپیکر کا ہوتا ہے۔ سابق سپیکر نینسی پلوسی کی جگہ ری پبلکن پارٹی کے نئے سپیکر جان بونر اوہایﺅ میں پیدا ہوئے۔ بارہ بہن بھایﺅں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ بارہ بہن بھائی مع اپنے والدین کے ریاست سنسنٹی میں دو کمروں اور ایک باتھ روم کے فلیٹ میں رہائش پذیر تھے۔ جان بونر نے آٹھ سال کی عمر میں اپنے باپ کی دکان پر ملازمت شروع کر دی تھی۔ وہ دکان کے ٹائلٹ اور فرش کی صفائی کیا کرتے تھے۔ سپیکر جان بونر اپنے خاندان میں بی اے کرنے والا پہلا فرد تھا۔ تعلیم کے لئے انہوں نے مختلف ملازمتیں کیں۔ صدر اوباما نے امریکی مسلمانوں کا بھی بڑے ”پیار“ کے ساتھ ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی مسلمان امریکہ کے اچھی شہری ہیں۔ صدر اوباما جس وقت امریکی مسلمانوں کے لئے اچھے جذبات کا ذکر رہے تھے، مجھے یقین تھا کہ اگلا موضوع وار آن ٹیرر، القاعدہ اور طالبان ہو گا اور ایسا ہی ہوا، صدر اوباما تقریر میں مہارت رکھتے ہیں۔ مشکل اور کڑوی بات بھی بڑی آسانی اور روانی کے ساتھ کہہ جاتے ہیں۔ وار آن ٹیرر کے نتائج کی بھی مثبت تصویر پیش کی جیسے زیادہ کام ہو گیا ہے، تھوڑا ہی باقی ہے اور وہ بھی پاکستان کے تعاون سے جلد مکمل ہو جائے گا۔ القاعدہ کا نیٹ ورک کمزور ہو رہاہے۔ ہم نیٹ ورک کو ختم کرکے دم لیں گے ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔! کون جیتا ہے تیری زلف کے اسیر ہونے تک ۔۔۔! دیکھئے کیا ہوتا ہے ۔۔۔ اس وار آن ٹیرر کے ختم ہونے تک ۔۔۔!

No comments:

Post a Comment