Saturday, February 12, 2011

حکومتی معاملات سے میاں نواز شریف کی مایوسی اور امریکی ادارے کی چشم کشا رپورٹ

ضرورت گول میز کانفرنس کی نہیں‘ اپنی اصلاح کی ہے
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے پیش کردہ اصلاحاتی ایجنڈے کے دس نکات مسلم لیگ (ن) کے ذاتی یا جماعتی مطالبات نہیں بلکہ ان میں حکومتی غلطیوں کی نشاندہی موجود ہے جن کی اصلاح کرکے ملک میں گڈگورننس کی بنیادیں فراہم کی جا سکتی ہیں۔ گزشتہ روز پنجاب ہاﺅس اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کے اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انکی جانب سے حکومت کو دی گئی 45 دن کی ڈیڈ لائن کا تقریباً دو تہائی عرصہ گزرنے کے باوجود محسوس ہو رہا ہے کہ حکومت ابھی تک اپنا راستہ تبدیل کرنے اور اپنی سمت درست کرنے کی صلاحیت سے محروم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دس نکات میں چونکہ پاکستان کو درپیش معاشی اور دیگر چیلنجز کا حل پہلے ہی پیش کیا جا چکا ہے‘ اس لئے گول میز کانفرنس کے انعقاد کی کوئی خاص ضرورت نہیں تھی۔ دوسری جانب قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر چودھری نثار علی خان نے بھی حکومت کے ساتھ مذاکرات پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کی ناکامی میں سب سے بڑا کردار صدر آصف علی زرداری کا ہے۔ انکے بقول صدر کی جانب سے گول میز کانفرنس کا انعقاد قوم سے بڑا مذاق ہے۔ حکومت کی گزشتہ تین برس کی کارکردگی پر رونا آتا ہے‘ ایسے حالات میں کانفرنس کے ذریعہ کن باتوں کی نشاندہی کی جائیگی؟ 
یہ درست ہے کہ میاں نواز شریف کے پیش کردہ دس نکاتی ایجنڈہ اور اس سے پہلے انکی جانب سے میثاق پاکستان کی پیشکش کی بنیاد پر اگر وفاقی حکومت سسٹم کی بقاءکی خاطر اپنی اصلاح کیلئے اقدامات بروئے کار لانے میں مخلص اور سنجیدہ ہو‘ کوئی وجہ نہیں کہ عوام کو ملک کے اور اپنے مستقبل کے حوالے سے امید کی کوئی کرن نظر نہ آئے اور جمہوریت کی گاڑی ٹریک پر نہ چلتی رہے مگر یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ حکمران سیاست دانوں نے جرنیلی آمریت کی نوبت لانے والی ماضی کی غلطیوں سے کوئی سبق سیکھا‘ نہ وہ اپنی بداعمالیوں اور بے ضابطگیوں کی اصلاح میں مخلص نظر آتے ہیں۔ نتیجتاً سلطانی جمہور کے تین سال کے دوران وفاقی حکمران آئے روز کسی نہ کسی بحران سے دوچار نظر آتے ہیں اور انکے اقتدار کیلئے ”صبح گیا یا شام گیا“ والی کیفیت بنی رہتی ہے۔ اگر میاں نواز شریف سسٹم کو ماضی جیسے ماورائے آئین کسی اقدام سے بچانے کے جذبے کے تحت موجودہ حکمرانوں کیلئے انکی کرپشن کی داستانوں کے زبان زدعام ہونے کے باوجود ڈھال نہ بنتے اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی مسلح افواج کو سول معاملات سے الگ تھلگ رکھنے سے متعلق اپنے عہد پر کاربند نہ ہوتے تو موجودہ حکمرانوں کا کب کا دھڑن تختہ ہو چکا ہوتا اور عوام بحالی جمہوریت کیلئے پھر سے ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہوتے مگر اپنے اقتدار کے اتنے سازگار حالات کے باوجود وفاقی حکمرانوں کو مصائب و مسائل میں گھرے عوام کو ریلیف دینے کا کبھی خیال نہ آیا‘ نہ وہ جمہوریت کے استحکام کے خواہش مند نظر آتے ہیں۔ اگر وہ خود ہی سسٹم کو اندھے کنویں کی جانب دھکیلنے میں مگن ہوں اور جس شاخ پر بیٹھے ہیں‘ اسی کو جڑے سے اکھاڑنے کے درپے ہوں‘ تو سسٹم کےلئے فکرمند کوئی دوسرا سیاسی قائد ان کیلئے کب تک ڈھال بنا رہ سکتا ہے؟ 
بدقسمتی سے وفاقی حکمرانوں نے یہ وطیرہ بنا رکھا ہے کہ کسی بحران کے موقع پر وہ اپوزیشن کی جانب ہاتھ بڑھاتے ہیں‘ ان کیلئے شیرو شکر نظر آتے ہیں‘ ان کا تعاون حاصل کرتے ہیں اور انکی طاقت سے خود کو بحران سے نکال کر پھر طوطا چشمی کی راہ اختیار کر لیتے ہیں‘ نہ انکے اللے تللوں میں اب تک کوئی کمی آئی ہے‘ نہ ہرجائز و ناجائز طریقہ سے دولت سمیٹنے اور ملک سے باہر منتقل کرنے کی حرص کم ہوئی ہے اور نہ اپنی من مانیوں پر مبنی پالیسیوں پر کسی قسم کی نظرثانی کا انہوں نے سوچا ہے....ع
وہی اک چال بے ڈھنگی‘ جو پہلے تھی سو اب بھی ہے 
اسکے برعکس عوام کے روٹی روزگار کے مسائل پہلے سے بھی گھمبیر ہو گئے ہیں۔ ان پر براہ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں کی پہلے سے بھی زیادہ بھرمار ہے۔ مہنگائی کا عفریت پہلے سے بھی زیادہ زہرناکی کے ساتھ پھنکارے مار رہا ہے۔ میرٹ کا قتل عام بھی جاری ہے اور اقرباءپرور ی کی بھی کوئی انتہاءنہیں رہی جبکہ مفلوک الحال عوام کا ہی نہیں‘ حکومتی پالیسیوں کے نتیجہ میں چاروں جانب سے خطرات میں گھرے اس وطن عزیز کا مستقبل بھی تاریک ہو رہا ہے۔ یقیناً ایسے ہی حالات کی بنیاد پر وفاقی وزیر خزانہ اور گورنر سٹیٹ بنک قومی معیشت کے دیوالیہ ہونے اور نتیجتاً پورے سسٹم کی ممکنہ تباہی کی بھیانک تصاویر حکمران طبقات کو دکھا چکے ہیں۔ 
میاں نواز شریف کے دس نکاتی ایجنڈہ میں انہی بے تدبیریوں‘ بے ضابطگیوں‘ کرپشنوں اور اقتصادی کساد بازاری سے ملک اور عوام کو نکالنے کا قابل عمل حل پیش کیا گیا ہے‘ جواب میں انکے پنجاب میں صوبائی لیڈران نے 19 نکات پیش کر دیئے مگر وفاقی حکمرانوں کے اخلاص کایہ عالم ہے کہ اب تک کسی ایک نکتے پر بھی موثر پیش رفت نہیں کی گئی اور اب بھی محض زبانی جمع خرچ سے کام لیا جا رہا ہے۔ جب وفاقی حکومت اپنے لئے سہولت محسوس کرتی ہے‘ میاں نواز شریف کی سیاست پر مختلف ذرائع سے پھبتیاں کسوانا شروع کر دیتی ہے اور جب خود کو کسی نہ کسی مشکل میں گھری محسوس کرتی ہے تو میاں نواز شریف کے ایجنڈہ پر مذاکرات کا بے عمل سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے۔ اب تک اس ایجنڈہ پر حکومت اور مسلم لیگ (ن) کی ٹیم کے مابین مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں‘ مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ وفاقی کابینہ کے حجم میں کمی کا حکمران پیپلز پارٹی کی قیادت کو اختیار ملا‘ ایک ہفتے تک اس بارے میں کوئی عملی پیش رفت بھی نہ ہو سکی اور کابینہ کی تحلیل کے معاملہ میں مختلف فنی رکاوٹوں کا بہانہ بنایا جاتا رہا جبکہ اب میاں نواز شریف نے وفاقی حکمرانوں کے معاملات میں مایوسی کا اظہار کیا ہے تو بدھ کے روز وفاقی کابینہ کے ارکان کے مستعفی ہونے کی خبر چلوا دی گئی ہے۔ اسی طرح حکومتی اخراجات میں کمی کے معاملہ میں بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی جبکہ پنجاب حکومت نے پہل کرتے ہوئے اپنے سالانہ اخراجات میں کم و بیش 6 ارب روپے کی کمی کا ایک جامع منصوبہ بھی پیش کر دیا۔ اب وفاقی وزیر خزانہ کی جانب سے قوم کو خوشخبری سنائی جا رہی ہے کہ 100 بڑے قرض معاف کرانے والوں کےخلاف کارروائی سے معاشی بہتری کا آغاز کیا جائیگا جبکہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت حکومتی وعدوں کے بارے میں اپنے سابقہ تجربات کی بنیاد پر اس معاملہ میں بھی مایوسی کا اظہار کر رہی ہے جو حقیقت بھی ہے کہ ابھی تک کسی قرض نادہندہ بڑی مچھلی کیخلاف قانونی شکنجہ کسنے کے تو کوئی آثار نظر نہیں آئے البتہ ان مزید بڑی مچھلیوں کے نام ضرور پارلیمنٹ کے فورم پر آگئے ہیں جنہوں نے موجودہ دور حکومت میں بھی بنکوں سے لئے گئے کرڑوں روپے کے قرضے معاف کرائے ہیں۔ اگر قرضے معاف کرنے کی پالیسی بھی برقرار رکھی گئی ہے تو پھر قرضے معاف کرانے والوں کیخلاف کسی کارروائی کی نوبت بھی کیا آئیگی؟
اس صورتحال میں امریکی ادارے یو ایس اے آئی ڈی کے انسپکٹر جنرل کی رپورٹ بھی کرپشن کے ستونوں پر کھڑے ہمارے جمہوری نظام کے منہ پر طمانچہ ہے کہ ”پاکستانی سیاست دانوں کی لوٹ مار بدستور جاری ہے اور عوام کو کچھ نہیں مل رہا“۔ یہ حقیقت ہے کہ عوام سب سے زیادہ موجودہ جمہوری نظام میں ہی بے بس اور بدحال ہوئے ہیں جنہیں زندگی کا تحفظ ہے‘ نہ روزگار کا‘ جو عملاً زندہ درگور ہو چکے ہیں اور انہیں اپنی آنیوالی نسلوں کیلئے بھی امید کی کوئی کرن نظر نہیں آرہی۔ اس تناظر میں جب صدر زرداری کی جانب سے گول میز کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا جاتا ہے تو اس پر اپوزیشن کے قائدین اور عوام کے ذہنوں میں یہ سوال اٹھنا فطری امر ہے کہ جب حکومت اپنی اصلاح کیلئے میاں نواز شریف کے پیش کردہ چارٹر آف ڈیمانڈ کو بھی خاطر میں نہیں لا رہی اور اپنی ڈگر پر قائم ہے تو اب گول میز کانفرنس کے ذریعہ کونسا مسئلہ حل کرنا مقصود ہے اگر عین اس مرحلہ میں جبکہ امریکہ کی جانب سے ہمارے معصوم شہریوں کے قاتل ریمنڈ کی رہائی کیلئے وفاقی حکومت پر ہر سطح کا دباﺅ ڈالا جا رہا ہے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں‘ صدر کی جانب سے گول میز کانفرنس طلب کرنے کا مقصد ریمنڈ کی امریکہ کو حوالگی کے معاملہ میں قومی سیاسی قائدین کو قائل کرنے کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی جانب سے یقیناً اسی پس منظر میں مجوزہ گول میز کانفرنس کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہ صورتحال بلاشبہ پوری قوم کیلئے لمحہ فکریہ ہے اس لئے حکمرانوں کی چاہے جو بھی مجبوریاں اور جو بھی مفادات ہوں‘ قومی سیاسی قائدین کو ریمنڈ کی رہائی کے معاملہ میں کسی حکومتی پالیسی کا ساتھ نہیں دینا چاہیے۔ حکمران اپنی اور سسٹم کی اصلاح اور بقاءچاہتے ہیں تو محض زبانی وعدے اور دعوے نہ کریں‘ انصاف وہی ہو گا جو ہوتا ہوا نظر بھی آئے۔ اس لئے اربوں کے قرضے معاف کرانے والوں کو قانون و انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ ممبران پارلیمنٹ کیلئے اربوں روپے کی لاجز تعمیر کرنے کا منصوبہ ختم کر دینا چاہیے‘ مراعات یافتہ حکومتی اشرافیہ طبقات کی شاہ خرچیاں بند کی جائیں‘ انکی کرپشنوں اور چوری سینہ چوری کے آگے بند باندھا جائے۔ وفاقی اور صوبائی کابیناﺅں کے حجم معقول حد تک کم کرکے حکومتی وسائل کے اندر رکھے جائیں‘ اقرباءپروری کی وباءکو جڑ سے اکھاڑا جائے‘ اوپر سے نیچے تک کی تقرریوں میں میرٹ کو بنیاد بنایا جائے اور قومی غیرت کے تقاضوں کے مطابق ملک کی خارجہ پالیسی ازسرنو تشکیل دی جائے ورنہ عوام کی مایوسیاں بڑھیں گی تو حکمرانوں کیلئے یہاں بھی تیونس اور مصر جیسے حالات کی نوبت لائیں گی۔ 
ریمنڈ ڈیوس پراسرار فگر! 
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کو رہا نہ کرنے پر امریکی حکومت نے پاکستان کے ساتھ تمام اعلیٰ سطح کے مذاکرات معطل کر دیئے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ ڈیوس کی رہائی نہ ہونے پر اس قدر ناراض ہیں کہ گزشتہ ہفتہ جرمنی میں پاکستانی ہم منصب کے شاہ محمود قریشی سے ملاقات نہیں کی۔ ہلیری‘ صدر زرداری اور آرمی چیف جنرل کیانی سے فون پر ڈیوس کی رہائی کا مطالبہ کر چکی ہیں۔ 
آج امریکی صدر اور وزیر خارجہ سمیت پوری امریکی انتظامیہ کو تین پاکستانیوں کے قاتل ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کی فکر ہے‘ پاکستان میں امریکی سفارت خانے اور قونصل خانے رہائی کیلئے سرگرم ہیں تو واشنگٹن میں پاکستانی سفیر پر دباﺅ ڈالا جا رہا ہے۔ حسین حقانی کو دو مرتبہ دفتر خارجہ طلب کرکے ریمنڈ کی رہائی کا مطالبہ کیا گیاہے۔ امداد بند کرنے کی دھمکیاں مسلسل دی جا رہی ہیں۔ امریکہ کا موقف ہے کہ ریمنڈ نے اپنے دفاع میں پاکستانیوں کو قتل کیا‘ اسے سفارتی استثنیٰ حاصل ہے اس لئے فوری رہا کیا جائے۔ ریمنڈ کا ابھی تک سفارتی استثنیٰ ثابت نہیں ہوا‘ یہ ثابت ہو جائے تب بھی عدالتی معاملات میں کسی کو مداخلت کی اجازت نہیں۔ پاکستانی حکمرانوں کو نہ امریکی حکمرانوں کو۔ اس ڈیوس نے اپنے دفاع میں گولیاں چلائیں تو اس کا فیصلہ عدالت کو کرنا ہے۔ بے گناہ ثابت ہونے پر اسے رہائی مل جائیگی‘ اور وہ باعزت طریقے سے اپنے گھر لوٹ جائیگا۔ امریکی دباﺅ اور پاکستانی حکمرانوں کے تذبذب کے باعث عوامی خفگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک مقتول کی بیوہ نے احتجاجاً اپنے ہاتھوں خود اپنی جان لے لی۔ اسکے ماں باپ بھی خودسوزی کا اعلان کر رہے ہیں۔ اگر ریمنڈ کو امریکی دباﺅ پر رہا کر دیا جاتا ہے تو اس سے بڑی بزدلی اور کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔ امریکہ کی ڈیوس کی گرفتاری پر بے چینی سے اندازہ ہوتا ہے کہ ڈیوس کوئی پراسرار فگر ہے‘ پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کو اس نہج پر تحقیقات کرنا چاہئیں‘ یہ ذات شریف کون ہیں‘ کیا ہیں؟
پی آئی اے ملازمین کی ہڑتال
پی آئی اے ملازمین نے ترکش ائر لائن سے معاہدے کی منسوخی اور ایم ڈی، پی آئی اے کی برطرفی کے لئے گذشتہ روز ہڑتال کی۔ اس دوران لاہور اور کراچی ائر پورٹس پر ہنگامے ہوئے۔ کراچی میں ملازمین اور انتظامیہ کے لوگ باہم دست و گریباں بھی ہوتے رہے اور کراچی سے راولپنڈی آنیوالی پی آئی اے کی پرواز میں ایم ڈی پی آئی اے اعجاز ہارون کو اترنے کی اجازت نہ دیکر وقتی طور پر عملاً محبوس کردیا گیا۔ ہڑتال کے باعث پروازوں کا شیڈول شدید متاثر ہوا۔ بہت سی پروازیں منسوخ کر دی گئیں جس کے باعث مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ پی آئی اے کو کبھی لاجواب سروس کہا جاتا ہے۔ آج خسارے میں جاتے ہوئے یہ دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انتظامیہ اور ملازمین مل کر پی آئی اے کو بحران سے نکالیں نہ کہ اس کو مزید بحرانوں میں دھکیل دیں۔ یہ ائر لائن نہ رہی تو کہاں کی انتظامیہ اور کہاں کے ملازمین۔ محب وطن لوگ آج بھی غیر معیاری سروس اور کارکردگی کے باوجود قومی ائر لائن میں ہی سفر کرتے ہیں۔ آج یہ لوگ نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ممالک بھی ائر پورٹس پر بے یارومددگار پڑے ہیں کچھ بیرونِ ملک جانے والوں کے ویزے اور ٹکٹیں ضائع ہو رہی ہیں۔ فریقین اپنی ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر مل بیٹھ کر معاملات طے کریں۔

No comments:

Post a Comment