Saturday, February 12, 2011

Love To Humanity



Aaj kamran khan ke saath – 11th february 2011







News Beat 11th February 2011









50 minute - 11th february 2011




Aaj ki baat - 11th february 2011




Air Crash Investigation - Pilot Vs. Plane



Oath Of New Cabnet

                                     Daily Express




God Mercy Little Cabnet

                                




Awam ka Samunder.................. Orya Maqbool

                                         





Why India Feverot

                                 




Nqazrane ................Abdullah Tariq Sohail

                                         
You might also like:


سرے راہے

کیانی کو بتا دیا گیا کہ ریمنڈ رہا نہ ہوا تو امداد کم ہو سکتی ہے‘ صدر زرداری کا دورۂ امریکہ خطرے میں پڑ سکتا ہے‘ امداد کم ہو سکتی ہے۔ 
ہمارے بہادر جرنیل اور سی این سی سے میونخ میں ہلیری نے جو کچھ کہا‘ اس کا جواب جنرل صاحب نے وہی دیا جس کی روشنی میں ہمارے کور کمانڈروں نے فوج کا موقف واضح طور پر بیان کردیا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کا معاملہ عدالت میں ہے‘ وہی فیصلہ کریگی‘ یہی موقف ہلیری کے سامنے جنرل کیانی نے بیان کر دیا تھا۔البتہ ایک لومڑی نے شیر کو دھمکی ضرور دی ہو گی۔ 
امریکہ کی ان دھمکیوں سے یہ ضرور پتہ چلتا ہے کہ اسے ریمنڈ کے عدم اسثتناء کی خبر ہے‘ اس لئے وہ اپنے دو دو ٹکے کے حربے استعمال کر رہا ہے۔ زرداری کا دورۂ امریکہ خطرے میں پڑنا‘ امداد کا کم ہونا‘ یہ تو تحائف ہونگے‘ جنہیں پاکستان بخوشی قبول کریگا۔ صدر اپنی جنت میں سرخرو ہو کر بیٹھے رہیں اور امداد نہ ملے تو اس سے بڑھ کر اچھی بات کیا ہو سکتی ہے۔ 
ریمنڈ قاتل ہے‘ امریکہ بھی قاتل ہے‘ ظاہر ہے قاتل‘ ایک قاتل کی ہی حمایت کریگا۔ امریکہ کو اپنی دولت اور سپر طاقت ہونے کا غرور ہے کیا وہ نہیں جانتا کہ…؎
قوم اپنی جو زر و مال جہاں پر مرتی 
بت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتی 
زرداری زردار ہیں‘ امریکی امداد کے طلب گار نہیں اور پھر مردحر ہیں‘ امریکی گٹار کا سُر نہیں کہ امریکہ کے اشارے پر بج اٹھے گا۔ ہمارے آرمی چیف کو دھمکی سنانا یہ تاثر دینا ہے کہ امریکہ پاکستان کی فوج کو بھی دھمکا سکتا ہے۔
ہمارے حکمرانوں‘ سیاست دانوں کو اب اندازہ لگا لینا چاہیے کہ امریکہ انہیں اور پورے پاکستان کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔ ریمنڈ کا مقدمہ ہماری عدالت میں ہے‘ عدالتی فیصلہ ہی ہم مانیں گے۔ افغانستان میں جھاڑی اور پتھر سے ڈر جانیوالے امریکیوں کی گیدڑ بھبکیوں سے لاالٰہ پڑھنے والے نہیں ڈریں گے۔ 
٭…٭…٭…٭
وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران قمر زمان کائرہ اور بابر اعوان نے تمام وزراء کو استعفے دینے کیلئے کہا‘ ایک وزیر نے استعفیٰ دینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ کیا آپ فوجی ہیں‘ بابر اعوان اور قمر کائرہ نے جواب دیا‘ نہیں حوالدار ہیں۔ 
یوں کہتے کہ ڈائریکٹ حوالدار ہیں‘ تو حقیقت کے زیادہ قریب ہوتا‘ تاہم جس وزیر نے استعفیٰ سے انکار کیا اور کہا آپ فوجی ہیں‘ اسکے ذہن میں مارشل لاء کا خوف گھسا ہوا تھا‘ اس لئے اس نے دونوں استعفیٰ طلب کرنیوالے وزیروں کو بھی فوجی سمجھا۔ اگر قمر کائرہ اور بابر عوان فوجی وردی پہن آتے تو وہ منکر وزیر بھی استعفیٰ دے دیتا۔ بہرصورت خود کو حوالدار ماننا بھی اپنی حیثیت کی صحیح پہچان ہے بلکہ اپنی پارٹی کو بھی پہچان رکھا ہے۔ ظاہر ہے کون نہیں جانتا کہ حوالدار کس محکمے سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ بھی ڈائریکٹ حوالدار۔ 
وفاقی کابینہ کو توڑنا تو دراصل اسے جوڑنا ہے‘ اس لئے نہیں کہ خدمت خلق صحیح انداز میں نہ کرنے کے باعث کابینہ کو توڑا جا رہا ہے بلکہ اسے موڑا جا رہا ہے۔ کابینہ تو تب ٹوٹے گی کہ وفاقی کابینہ صرف 14 وزراء پر مشتمل ہو اور 96 وزراء کا بوجھ قوم کے نحیف کاندھوں سے ہٹ جائے۔ 82 وزراء کم ہوں تو کتنے غم نہ ہونگے۔ امریکی امداد کی بھی ضرورت نہیں رہے گی اور فارغ ہونیوالے وزراء پوری دلجمعی کے ساتھ اپنے اپنے حلقوں کی خدمت کر سکیں گے۔ 
محبوب جتنے کم ہونگے‘ عشاق اتنے ہی زیادہ ہونگے اور پاکستان میں جمہوریت عشق ٹھہرے گی۔ اگر کابینہ کا حجم کم کرنے کیلئے اسے توڑا جا رہا ہے تو یہ ایک خوش آئند بات ہے‘ مگر یہ نہ ہو کہ تھوڑے وزیر زیادہ وزیروں جتنا خرچہ شروع کر دیں۔ 
٭…٭…٭…٭
بھارت کے ایک ریاستی وزیر نے کہا ہے‘ اندرا گاندھی کے برتن دھونے پر پریتیا پاٹیل کو صدارت ملی۔ 
کہتے ہیں کہ خانخاناں کہیں سے گزر رہے تھے کہ اچانک اایک مانگنے والی نے توے کا کالا حصہ انکے سفید براق ریشمی کپڑوں سے رگڑنا شروع کر دیا۔ خانخاناں نے سبب پوچھا تو اس مانگنے والی نے کہا‘ میں نے سنا تھا کہ اگر لوہے کو پارس سے رگڑا جائے تو وہ سونا بن جاتا ہے۔ خانخاناں نے توے کے وزن کے برابر سونا دینے کا حکم جاری کر دیا۔ 
اندرا گاندھی ہو یا ہمارے حکمران‘ کوئی انکے پائوں دبادے‘ مالش کر دے‘ برتن دھو دے‘ انہیں کوئی بڑا عہدہ مل ہی جاتا ہے۔ اکثر لوگ ہوائی جہاز میں بھی اس تاڑ میں رہتے ہیں کہ حکمران کی لپک کر کوئی ایسی خدمت کر دی جائے کہ انکی کایا پلٹ جائے۔ بھارتی ریاستی وزیر کے بقول ممکن ہے بھارت کی موجودہ خاتون صدر نے اپنا ہنر دکھا دیا ہو اور موقع پا کر اندرا گاندھی کے برتن چمکا دیئے ہوں اور سونیا نے اپنی ساس کی لاج رکھتے ہوئے پریتیا پاٹیل کو عہدۂ صدارت عطا کر دیا ہو۔ آخر برتن دھونے کا کرشمہ رنگ لے ہی آیا۔ بھارتی کانگریس کے دوسرے بڑے عہدیداروں کی خدمات بھی سامنے آجانی چاہئیں۔ 
یہ سلسلہ عہدہ نوازی ہمارے عہدہ نوازوں کے ہاں بھی رائج ہے اور اڑتی اڑتی خبریں بعض خواتین و حضرات کے بارے میں پھیلتی رہتی ہیں۔ بھارت اور پاکستان اگرچہ بالکل دو مختلف ملک ہیں‘ مگر بعض باتوں میں ہم زلف بھی ہیں۔ یہ تو کلمہ گوئی نے فرق ڈال دیا ہے‘ وگرنہ بعض فطرتیں تو ایک جیسی بھی ہیں۔



لاہور ہائیکورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کے اندراج کی درخواست پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا


لاہور ہائیکورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کے اندراج کی درخواست پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

ـ 16 گھنٹے 31 منٹ پہلے شائع کی گئی
  •    
  •    
  • Adjust Font Size
لاہور ہائیکورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کے اندراج کی درخواست پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کے اندراج کی درخواست مقامی وکیل جمیل رانا کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ درخواست کی سماعت لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس چوہدری افتخار حسین نے کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ تین نومبر دو ہزار سات کے اقدام کو سپریم کورٹ غیرآئینی قرار دے چکی ہے لیکن وفاقی حکومت نے پرویز مشرف کے خلاف کاروائی نہیں کی۔ سماعت کے بعد فاضل عدالت نے وفاقی حکومت سے پندرہ روز میں جواب طلب کرلیا



حکومتی معاملات سے میاں نواز شریف کی مایوسی اور امریکی ادارے کی چشم کشا رپورٹ

ضرورت گول میز کانفرنس کی نہیں‘ اپنی اصلاح کی ہے
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے پیش کردہ اصلاحاتی ایجنڈے کے دس نکات مسلم لیگ (ن) کے ذاتی یا جماعتی مطالبات نہیں بلکہ ان میں حکومتی غلطیوں کی نشاندہی موجود ہے جن کی اصلاح کرکے ملک میں گڈگورننس کی بنیادیں فراہم کی جا سکتی ہیں۔ گزشتہ روز پنجاب ہاﺅس اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کے اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انکی جانب سے حکومت کو دی گئی 45 دن کی ڈیڈ لائن کا تقریباً دو تہائی عرصہ گزرنے کے باوجود محسوس ہو رہا ہے کہ حکومت ابھی تک اپنا راستہ تبدیل کرنے اور اپنی سمت درست کرنے کی صلاحیت سے محروم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دس نکات میں چونکہ پاکستان کو درپیش معاشی اور دیگر چیلنجز کا حل پہلے ہی پیش کیا جا چکا ہے‘ اس لئے گول میز کانفرنس کے انعقاد کی کوئی خاص ضرورت نہیں تھی۔ دوسری جانب قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر چودھری نثار علی خان نے بھی حکومت کے ساتھ مذاکرات پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کی ناکامی میں سب سے بڑا کردار صدر آصف علی زرداری کا ہے۔ انکے بقول صدر کی جانب سے گول میز کانفرنس کا انعقاد قوم سے بڑا مذاق ہے۔ حکومت کی گزشتہ تین برس کی کارکردگی پر رونا آتا ہے‘ ایسے حالات میں کانفرنس کے ذریعہ کن باتوں کی نشاندہی کی جائیگی؟ 
یہ درست ہے کہ میاں نواز شریف کے پیش کردہ دس نکاتی ایجنڈہ اور اس سے پہلے انکی جانب سے میثاق پاکستان کی پیشکش کی بنیاد پر اگر وفاقی حکومت سسٹم کی بقاءکی خاطر اپنی اصلاح کیلئے اقدامات بروئے کار لانے میں مخلص اور سنجیدہ ہو‘ کوئی وجہ نہیں کہ عوام کو ملک کے اور اپنے مستقبل کے حوالے سے امید کی کوئی کرن نظر نہ آئے اور جمہوریت کی گاڑی ٹریک پر نہ چلتی رہے مگر یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ حکمران سیاست دانوں نے جرنیلی آمریت کی نوبت لانے والی ماضی کی غلطیوں سے کوئی سبق سیکھا‘ نہ وہ اپنی بداعمالیوں اور بے ضابطگیوں کی اصلاح میں مخلص نظر آتے ہیں۔ نتیجتاً سلطانی جمہور کے تین سال کے دوران وفاقی حکمران آئے روز کسی نہ کسی بحران سے دوچار نظر آتے ہیں اور انکے اقتدار کیلئے ”صبح گیا یا شام گیا“ والی کیفیت بنی رہتی ہے۔ اگر میاں نواز شریف سسٹم کو ماضی جیسے ماورائے آئین کسی اقدام سے بچانے کے جذبے کے تحت موجودہ حکمرانوں کیلئے انکی کرپشن کی داستانوں کے زبان زدعام ہونے کے باوجود ڈھال نہ بنتے اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی مسلح افواج کو سول معاملات سے الگ تھلگ رکھنے سے متعلق اپنے عہد پر کاربند نہ ہوتے تو موجودہ حکمرانوں کا کب کا دھڑن تختہ ہو چکا ہوتا اور عوام بحالی جمہوریت کیلئے پھر سے ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہوتے مگر اپنے اقتدار کے اتنے سازگار حالات کے باوجود وفاقی حکمرانوں کو مصائب و مسائل میں گھرے عوام کو ریلیف دینے کا کبھی خیال نہ آیا‘ نہ وہ جمہوریت کے استحکام کے خواہش مند نظر آتے ہیں۔ اگر وہ خود ہی سسٹم کو اندھے کنویں کی جانب دھکیلنے میں مگن ہوں اور جس شاخ پر بیٹھے ہیں‘ اسی کو جڑے سے اکھاڑنے کے درپے ہوں‘ تو سسٹم کےلئے فکرمند کوئی دوسرا سیاسی قائد ان کیلئے کب تک ڈھال بنا رہ سکتا ہے؟ 
بدقسمتی سے وفاقی حکمرانوں نے یہ وطیرہ بنا رکھا ہے کہ کسی بحران کے موقع پر وہ اپوزیشن کی جانب ہاتھ بڑھاتے ہیں‘ ان کیلئے شیرو شکر نظر آتے ہیں‘ ان کا تعاون حاصل کرتے ہیں اور انکی طاقت سے خود کو بحران سے نکال کر پھر طوطا چشمی کی راہ اختیار کر لیتے ہیں‘ نہ انکے اللے تللوں میں اب تک کوئی کمی آئی ہے‘ نہ ہرجائز و ناجائز طریقہ سے دولت سمیٹنے اور ملک سے باہر منتقل کرنے کی حرص کم ہوئی ہے اور نہ اپنی من مانیوں پر مبنی پالیسیوں پر کسی قسم کی نظرثانی کا انہوں نے سوچا ہے....ع
وہی اک چال بے ڈھنگی‘ جو پہلے تھی سو اب بھی ہے 
اسکے برعکس عوام کے روٹی روزگار کے مسائل پہلے سے بھی گھمبیر ہو گئے ہیں۔ ان پر براہ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں کی پہلے سے بھی زیادہ بھرمار ہے۔ مہنگائی کا عفریت پہلے سے بھی زیادہ زہرناکی کے ساتھ پھنکارے مار رہا ہے۔ میرٹ کا قتل عام بھی جاری ہے اور اقرباءپرور ی کی بھی کوئی انتہاءنہیں رہی جبکہ مفلوک الحال عوام کا ہی نہیں‘ حکومتی پالیسیوں کے نتیجہ میں چاروں جانب سے خطرات میں گھرے اس وطن عزیز کا مستقبل بھی تاریک ہو رہا ہے۔ یقیناً ایسے ہی حالات کی بنیاد پر وفاقی وزیر خزانہ اور گورنر سٹیٹ بنک قومی معیشت کے دیوالیہ ہونے اور نتیجتاً پورے سسٹم کی ممکنہ تباہی کی بھیانک تصاویر حکمران طبقات کو دکھا چکے ہیں۔ 
میاں نواز شریف کے دس نکاتی ایجنڈہ میں انہی بے تدبیریوں‘ بے ضابطگیوں‘ کرپشنوں اور اقتصادی کساد بازاری سے ملک اور عوام کو نکالنے کا قابل عمل حل پیش کیا گیا ہے‘ جواب میں انکے پنجاب میں صوبائی لیڈران نے 19 نکات پیش کر دیئے مگر وفاقی حکمرانوں کے اخلاص کایہ عالم ہے کہ اب تک کسی ایک نکتے پر بھی موثر پیش رفت نہیں کی گئی اور اب بھی محض زبانی جمع خرچ سے کام لیا جا رہا ہے۔ جب وفاقی حکومت اپنے لئے سہولت محسوس کرتی ہے‘ میاں نواز شریف کی سیاست پر مختلف ذرائع سے پھبتیاں کسوانا شروع کر دیتی ہے اور جب خود کو کسی نہ کسی مشکل میں گھری محسوس کرتی ہے تو میاں نواز شریف کے ایجنڈہ پر مذاکرات کا بے عمل سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے۔ اب تک اس ایجنڈہ پر حکومت اور مسلم لیگ (ن) کی ٹیم کے مابین مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں‘ مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ وفاقی کابینہ کے حجم میں کمی کا حکمران پیپلز پارٹی کی قیادت کو اختیار ملا‘ ایک ہفتے تک اس بارے میں کوئی عملی پیش رفت بھی نہ ہو سکی اور کابینہ کی تحلیل کے معاملہ میں مختلف فنی رکاوٹوں کا بہانہ بنایا جاتا رہا جبکہ اب میاں نواز شریف نے وفاقی حکمرانوں کے معاملات میں مایوسی کا اظہار کیا ہے تو بدھ کے روز وفاقی کابینہ کے ارکان کے مستعفی ہونے کی خبر چلوا دی گئی ہے۔ اسی طرح حکومتی اخراجات میں کمی کے معاملہ میں بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی جبکہ پنجاب حکومت نے پہل کرتے ہوئے اپنے سالانہ اخراجات میں کم و بیش 6 ارب روپے کی کمی کا ایک جامع منصوبہ بھی پیش کر دیا۔ اب وفاقی وزیر خزانہ کی جانب سے قوم کو خوشخبری سنائی جا رہی ہے کہ 100 بڑے قرض معاف کرانے والوں کےخلاف کارروائی سے معاشی بہتری کا آغاز کیا جائیگا جبکہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت حکومتی وعدوں کے بارے میں اپنے سابقہ تجربات کی بنیاد پر اس معاملہ میں بھی مایوسی کا اظہار کر رہی ہے جو حقیقت بھی ہے کہ ابھی تک کسی قرض نادہندہ بڑی مچھلی کیخلاف قانونی شکنجہ کسنے کے تو کوئی آثار نظر نہیں آئے البتہ ان مزید بڑی مچھلیوں کے نام ضرور پارلیمنٹ کے فورم پر آگئے ہیں جنہوں نے موجودہ دور حکومت میں بھی بنکوں سے لئے گئے کرڑوں روپے کے قرضے معاف کرائے ہیں۔ اگر قرضے معاف کرنے کی پالیسی بھی برقرار رکھی گئی ہے تو پھر قرضے معاف کرانے والوں کیخلاف کسی کارروائی کی نوبت بھی کیا آئیگی؟
اس صورتحال میں امریکی ادارے یو ایس اے آئی ڈی کے انسپکٹر جنرل کی رپورٹ بھی کرپشن کے ستونوں پر کھڑے ہمارے جمہوری نظام کے منہ پر طمانچہ ہے کہ ”پاکستانی سیاست دانوں کی لوٹ مار بدستور جاری ہے اور عوام کو کچھ نہیں مل رہا“۔ یہ حقیقت ہے کہ عوام سب سے زیادہ موجودہ جمہوری نظام میں ہی بے بس اور بدحال ہوئے ہیں جنہیں زندگی کا تحفظ ہے‘ نہ روزگار کا‘ جو عملاً زندہ درگور ہو چکے ہیں اور انہیں اپنی آنیوالی نسلوں کیلئے بھی امید کی کوئی کرن نظر نہیں آرہی۔ اس تناظر میں جب صدر زرداری کی جانب سے گول میز کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا جاتا ہے تو اس پر اپوزیشن کے قائدین اور عوام کے ذہنوں میں یہ سوال اٹھنا فطری امر ہے کہ جب حکومت اپنی اصلاح کیلئے میاں نواز شریف کے پیش کردہ چارٹر آف ڈیمانڈ کو بھی خاطر میں نہیں لا رہی اور اپنی ڈگر پر قائم ہے تو اب گول میز کانفرنس کے ذریعہ کونسا مسئلہ حل کرنا مقصود ہے اگر عین اس مرحلہ میں جبکہ امریکہ کی جانب سے ہمارے معصوم شہریوں کے قاتل ریمنڈ کی رہائی کیلئے وفاقی حکومت پر ہر سطح کا دباﺅ ڈالا جا رہا ہے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں‘ صدر کی جانب سے گول میز کانفرنس طلب کرنے کا مقصد ریمنڈ کی امریکہ کو حوالگی کے معاملہ میں قومی سیاسی قائدین کو قائل کرنے کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی جانب سے یقیناً اسی پس منظر میں مجوزہ گول میز کانفرنس کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہ صورتحال بلاشبہ پوری قوم کیلئے لمحہ فکریہ ہے اس لئے حکمرانوں کی چاہے جو بھی مجبوریاں اور جو بھی مفادات ہوں‘ قومی سیاسی قائدین کو ریمنڈ کی رہائی کے معاملہ میں کسی حکومتی پالیسی کا ساتھ نہیں دینا چاہیے۔ حکمران اپنی اور سسٹم کی اصلاح اور بقاءچاہتے ہیں تو محض زبانی وعدے اور دعوے نہ کریں‘ انصاف وہی ہو گا جو ہوتا ہوا نظر بھی آئے۔ اس لئے اربوں کے قرضے معاف کرانے والوں کو قانون و انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ ممبران پارلیمنٹ کیلئے اربوں روپے کی لاجز تعمیر کرنے کا منصوبہ ختم کر دینا چاہیے‘ مراعات یافتہ حکومتی اشرافیہ طبقات کی شاہ خرچیاں بند کی جائیں‘ انکی کرپشنوں اور چوری سینہ چوری کے آگے بند باندھا جائے۔ وفاقی اور صوبائی کابیناﺅں کے حجم معقول حد تک کم کرکے حکومتی وسائل کے اندر رکھے جائیں‘ اقرباءپروری کی وباءکو جڑ سے اکھاڑا جائے‘ اوپر سے نیچے تک کی تقرریوں میں میرٹ کو بنیاد بنایا جائے اور قومی غیرت کے تقاضوں کے مطابق ملک کی خارجہ پالیسی ازسرنو تشکیل دی جائے ورنہ عوام کی مایوسیاں بڑھیں گی تو حکمرانوں کیلئے یہاں بھی تیونس اور مصر جیسے حالات کی نوبت لائیں گی۔ 
ریمنڈ ڈیوس پراسرار فگر! 
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کو رہا نہ کرنے پر امریکی حکومت نے پاکستان کے ساتھ تمام اعلیٰ سطح کے مذاکرات معطل کر دیئے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ ڈیوس کی رہائی نہ ہونے پر اس قدر ناراض ہیں کہ گزشتہ ہفتہ جرمنی میں پاکستانی ہم منصب کے شاہ محمود قریشی سے ملاقات نہیں کی۔ ہلیری‘ صدر زرداری اور آرمی چیف جنرل کیانی سے فون پر ڈیوس کی رہائی کا مطالبہ کر چکی ہیں۔ 
آج امریکی صدر اور وزیر خارجہ سمیت پوری امریکی انتظامیہ کو تین پاکستانیوں کے قاتل ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کی فکر ہے‘ پاکستان میں امریکی سفارت خانے اور قونصل خانے رہائی کیلئے سرگرم ہیں تو واشنگٹن میں پاکستانی سفیر پر دباﺅ ڈالا جا رہا ہے۔ حسین حقانی کو دو مرتبہ دفتر خارجہ طلب کرکے ریمنڈ کی رہائی کا مطالبہ کیا گیاہے۔ امداد بند کرنے کی دھمکیاں مسلسل دی جا رہی ہیں۔ امریکہ کا موقف ہے کہ ریمنڈ نے اپنے دفاع میں پاکستانیوں کو قتل کیا‘ اسے سفارتی استثنیٰ حاصل ہے اس لئے فوری رہا کیا جائے۔ ریمنڈ کا ابھی تک سفارتی استثنیٰ ثابت نہیں ہوا‘ یہ ثابت ہو جائے تب بھی عدالتی معاملات میں کسی کو مداخلت کی اجازت نہیں۔ پاکستانی حکمرانوں کو نہ امریکی حکمرانوں کو۔ اس ڈیوس نے اپنے دفاع میں گولیاں چلائیں تو اس کا فیصلہ عدالت کو کرنا ہے۔ بے گناہ ثابت ہونے پر اسے رہائی مل جائیگی‘ اور وہ باعزت طریقے سے اپنے گھر لوٹ جائیگا۔ امریکی دباﺅ اور پاکستانی حکمرانوں کے تذبذب کے باعث عوامی خفگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک مقتول کی بیوہ نے احتجاجاً اپنے ہاتھوں خود اپنی جان لے لی۔ اسکے ماں باپ بھی خودسوزی کا اعلان کر رہے ہیں۔ اگر ریمنڈ کو امریکی دباﺅ پر رہا کر دیا جاتا ہے تو اس سے بڑی بزدلی اور کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔ امریکہ کی ڈیوس کی گرفتاری پر بے چینی سے اندازہ ہوتا ہے کہ ڈیوس کوئی پراسرار فگر ہے‘ پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کو اس نہج پر تحقیقات کرنا چاہئیں‘ یہ ذات شریف کون ہیں‘ کیا ہیں؟
پی آئی اے ملازمین کی ہڑتال
پی آئی اے ملازمین نے ترکش ائر لائن سے معاہدے کی منسوخی اور ایم ڈی، پی آئی اے کی برطرفی کے لئے گذشتہ روز ہڑتال کی۔ اس دوران لاہور اور کراچی ائر پورٹس پر ہنگامے ہوئے۔ کراچی میں ملازمین اور انتظامیہ کے لوگ باہم دست و گریباں بھی ہوتے رہے اور کراچی سے راولپنڈی آنیوالی پی آئی اے کی پرواز میں ایم ڈی پی آئی اے اعجاز ہارون کو اترنے کی اجازت نہ دیکر وقتی طور پر عملاً محبوس کردیا گیا۔ ہڑتال کے باعث پروازوں کا شیڈول شدید متاثر ہوا۔ بہت سی پروازیں منسوخ کر دی گئیں جس کے باعث مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ پی آئی اے کو کبھی لاجواب سروس کہا جاتا ہے۔ آج خسارے میں جاتے ہوئے یہ دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انتظامیہ اور ملازمین مل کر پی آئی اے کو بحران سے نکالیں نہ کہ اس کو مزید بحرانوں میں دھکیل دیں۔ یہ ائر لائن نہ رہی تو کہاں کی انتظامیہ اور کہاں کے ملازمین۔ محب وطن لوگ آج بھی غیر معیاری سروس اور کارکردگی کے باوجود قومی ائر لائن میں ہی سفر کرتے ہیں۔ آج یہ لوگ نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ممالک بھی ائر پورٹس پر بے یارومددگار پڑے ہیں کچھ بیرونِ ملک جانے والوں کے ویزے اور ٹکٹیں ضائع ہو رہی ہیں۔ فریقین اپنی ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر مل بیٹھ کر معاملات طے کریں۔











کابینہ نابینا اور آنکھوں والے وزیر شذیر




ریمنڈ ڈیوس کیس اور گ ول میز کانفرنس


Watch Now Islamabad tonight 9th february 2011Watch Now Islamabad tonight 9th february 2011
http://www.awaztoday.com/playvideo.asp?pageId=13056
http://www.zemtv.com/2011/02/09/islamabad-tonight-9th-february-2011
ISLAMABAD TONIGHT
WITH NADEEM MALIK
09-02-2011
TOPIC- RESIGNATION OF THE CABINET
GUESTS- QAZI HUSSAIN AHMED, NAZAR MOHAMMAD GONDAL, KASHMALA TARIQ, RAZA HAROON
QAZI HUSSAIN AHMED OF JI said that no murderer can have diplomatic immunity according to international laws. He said that America is shamelessly demanding the release of Raymond Davis. He said that Pakistan does not need dollars to be the slave of America. He said that the government needs to change its boasting attitude. He said that three years is not enough time to change the system but at least direction would have been set. He said that the country was looted under every dictator rule. He said that our military generals have become billionaires and we need a people's army. He said that nation has been divided into casts and sects. He said that Pakistan needs revolution to resolve its problems. He said that the situation in Pakistan can only improve if we say no to America on its so called war against terrorism. He said that ten innocent people are being killed to get rid of one suspected terrorist.
NAZAR MOHAMMAD GONDAL OF PPPP said that it takes some time to change the system and three years time is not enough. He said that it was impossible to bring reforms in the country because of the discontinuation of democracy. He said that Egypt and Tunis type revolution is impossible in Pakistan. He said that media and judiciary are free in Pakistan. He said that every dictator introduced a new system in Pakistan and they all failed. He said that despite of the precarious economic situation Pakistan's reserves have been reached to 17 billion dollars and export increase is 25 percent. He said that Pakistan is in war like situation. He said that people who criticize us for supporting America have been American allies during Afghan war against soviets. He said that we should not be emotional about Raymond Davis case because it is in the court to decide. He said that he can not tell the exact number but the new cabinet will be smaller one.
KASHMALA TARIQ OF PML (Q) said that as log the names of the new cabinet are not announced it is difficult to judge the honesty of the government. She said that if people of previous cabinet are going to be the part of new one then nothing is going to change. She said that soon PML (N) will throw out PPPP ministers from Punjab government. She said that after getting rid of PPPP ministers PML (N) will play the role of real opposition for six months and finally will demand new elections early next year. She said that her party demands information from government on American presence in the country but their demand is always turned down. She said that Americans have rented about 250 residences in Islamabad. She said that new cabinet should be consisting of capable and honest people. She said that government already has their best in the cabinet and it will be difficult for them to find better people.
RAZA HAROON OF MQM said that MQM will not be the part of the cabinet for the time being. He said that no body can say any thing for sure in politics. He said that Pakistan is unable to clear its policy to America in last 63 years. He said that Pakistan needs to stand on its own feet. He said that on the cruel punishment of Dr Afia president Obama said that courts are free in America. He said that we should also support our courts on Raymond Davis case. He said that government needs to be wise on the decision of smaller cabinet. He said that if new cabinet fail to deliver then good decision will be termed as bad one.

No comments:

Post a Comment