Friday, February 4, 2011

عرب دنیا میں انقلاب کی لہر اور پاکستان



لیفٹینٹ جنرل (ر) عبدالقیوم ـ  
بیسویں صدی کا سورج ابھی غروب نہیں ہوا تھا کہ افغانستان میں ہزیمت اٹھانے کے فوراً بعد سویت یونین کی معیشت کومے میں چلی گئی اور نتیجتاً اس دیو قامت ایٹمی ریاست کا اپنی بے پناہ عسکری صلاحیتوں کے باوجود شیرازہ بکھر گیا۔اس کا قدرتی نتیجہ یہ نکلا کہ سردجنگ کے بادل اچانک چھٹ گئے او ر امریکہ پوری دنیا کا خودسر اور مطلق العنان بادشاہ بن گیا۔ وارسا پیکٹ کی Threatیا خطرہ غائب ہوجانے کے باوجود یورپ کو اپنے ساتھ رکھنے اور NATO افواج کو قائم ودائم رکھنے کا جواز ڈھونڈنے کیلئے اب امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ایک مشترکہ دشمن یا ٹارگٹ کی اشد ضرورت تھی اس مقصد کے حصول کیلئے پوری دنیا میں تیزی سے پھیلنے والا مذہب اسلام موزوں ترین ہدف تھا۔ امریکہ اور دیگر مغری قوتوں کی توپوں کا رخ آہستہ آہستہ مسلمان کی طرف مڑنا شروع ہوگیا۔یہ ہنود اور یہود کیلئے بھی ایک بہت ہی بڑی خو ش کن خبر تھی۔چونکہ یہ اُن کی مسلمان دشمن پالیسی کے عین مطابق تھا اپنے مذموم عزائم کو عملی جامہ پہنانے کیلئے 9/11 کا ڈرامہ رچایا گیا۔جس سے ہندو یہودی اور نصاریٰ کا شیطانی اتحاد ثلاثہ مکمل ہوگیا۔جس کو مسلمانوں کے مفادات کے خلاف کام کرنے والی Strategic Triangle کہا جاتا ہے لیکن اللہ کا یہ کرم ہے کہ اسلام دشمن قوتوں کو پچھلے دس سالوں میں اربوں ڈالرز ڈبونے، ہزاروں سپاہی ہلاک کروانے اور ہر طرف زور زور سے ٹکریں مارنے کے باوجود وہ کامیابی حاصل نہ ہوسکی جس کے وہ متمنی تھے۔ عراق میں اس کے بعد امن قائم نہ ہوسکا جو اسرائیل کی سیکورٹی کیلئے ضروری ہے لبنان میں یہودیوں کو منہ کی کھانا پڑی کشمیری مسلمانوں نے ہندوئوں کی ناک میں دم کردیا۔ اسامہ اور ملا عمر جیسا کوئی بھی اہم لیڈر اتحادیوں کے ہاتھ نہیں لگا۔افغانستان کے بین الاقوامی سلطنتوں کیلئے مختص تاریخی قبرستان میں سویت یونین اور برطانیہ کے ساتھ امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے بھی ایک کونے میں اپنے تابوتوں کی تدفین کیلئے اپنی قبروں کی جگہ الاٹ کروالی اس میں شک نہیں کہ مستقبل کا تاریخ دان امریکہ کی10سالہ ناکام افغانستان جنگ کو موجودہ تاریخ کی امریکہ کی سب سے شرمناک شکست کے نام سے منسوب کریگا۔ امریکہ کی عراق اور افغانستان میں پسپائی کے علاوہ ترکی کی نئی سیاسی قیادت نے بھی NATO کے ایک رکن ہونے کے باوجود نہایت جرأت سے امریکہ اور مغرب سے منہ موڑ کر مسلمانوں کے اتحاد کی بات کرنا شروع کردی ہے۔
حسنی مبارک1971 میں اقتدار میں اس وقت آئے جب مصری صدر انور سادات کو ایک فوجی پریڈ میں قتل کردیا گیا تھا۔ اب تیس سال کی آمرانہ حکومت کے بعد بھی 82سالہ مصری صدر پاکستانی سیاستدانوں کی طرح یہ چاہتا ہے کہ اس کے بیٹے کی تاج پوشی کی جائے۔ صدر مخالف مظاہرے اتنے زور دار اور اچانک تھے کہ امریکہ حیران اور پریشان ہوگیا چونکہ پچھلے تیس سالوں سے مصر بھی امریکہ کی ایک ریاست سے کم نہ تھا۔ چونکہ تابعدار مصر اسرائیل کی سیکورٹی کیلئے ایک بہت بڑی ضمانت تھا فلسطینیوں پر بد ترین مظالم کے باوجود حسنی مبارک کی موجودگی میں اسرائیل کو مصر کے صحرائے سینا کی طرف سے کوئی خطرہ نہ تھا۔اگر مصر سے بھی امریکی بُت ہٹا دئیے گئے تو امریکہ کی عرب دنیا سے پسپائی کی ابتدا تصور ہوگی ایران کی جرأت مند قیادت پہلے ہی امریکہ کے نیچے لگنے کو تیار نہیں۔ یہ ساری صورتِ حال بد حال معیشت کا شکار امریکہ کیلئے بہت پریشان کن ہے۔اب امریکی نائب صدر جوزف بائیڈن نے اس خطرے کا اظہار بھی کردیا ہے کہ امریکی تسلط کے خلاف عوامی بغاوت کی یہ لہر پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔پاکستان کے کچھ دانشور یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی صورت حال عرب ممالک سے مختلف اس لئے ہے کہ یہاں آمریت نہیں جمہوریت ہے ،عدلیہ آزاد ہے اور میڈیا پر کوئی پابندی نہیں وہ یہ نہیں سمجھتے کہ آمریت اور جَبر تو لازم و ملزوم ہیں اور جبر اور ظلم کے خلاف لوگوں کی نفرت کا لاوا ضرور پکتا رہتا ہے اور جب یہ لاوا اچانک پھٹتا ہے تو سب کچھ بہا کرلے جاتا ہے جیسے ایران کے شہنشاہ کی مضبوط ترین حکومت ختم ہوگئی یا اب حسنی مبارک کی تیس سالہ آمریت کاجنازہ نکلنے والا ہے لیکن اگر برائے نام جمہوریت کے لبادے میں حکمران ٹولے کے ہاتھوں لوگوں کے حقوق سلب ہورہے ہوں، کرپشن، رشوت، کنبہ پروری اور اقربا پروری کا بازار گرم ہو۔ عوام بد ترین معاشی بد حالی کا شکار ہوجائیں ایسی معاشی بد حالی جو جینا محال کردے ہر سودے میں کک بیکس لینے کی باتیں ہوں، بیرونی مداخلت صرف پالیسیوں کی حد تک زبانی کلامی نہیں بلکہ عملی طورپر باقاعدہ ڈرون حملوں کی صورت میں ہورہی ہے ، بجلی اور گیس نایاب ہوجائے۔ بے روزگاری اور بھوک سے تنگ آکر لوگ خودکشیوں پر مجبور ہوجائیں۔دن دیہاڑے ٹارگٹ کلنگ سے بڑے شہروں کے بھرے بازاروں میں بے گناہ لوگوں کی جان لے لی جائے اور مقبولیت کے لواحقین کو داد رسی کی اجازت تک نہ ہو۔ 
بڑے عہدوں پر چھوٹے لوگ قابض ہوں، عدالتی احکامات کو حکومتی کارندے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیں، میرٹ نام کی کوئی چیز نہ ہو، معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کا کام کرنے والی سرکاری کارپوریشنوں میں بغیر کسی خوف کے لوٹ سیل لگی ہوئی ہو۔ کمزور ترین حکمرانی، بد انتظامی اور کرپشن کی وجہ سے قوم کو تین سالوں میں اتنا مقروض کردیاجائے جتنی وہ پچھلے ساٹھ سالوں میں نہ ہوئی ہو اندھیرنگری میں روشنی کی کرن دور دور تک نظر نہ آئے کچھ جماعتیں حکومت میں رہ کر اپوزیشن کریں اور فائدے بھی اٹھائیں اور کچھ اپوزیشن میں رہ کر ملک کیلئے مہلک ترین حکومت کواس لئے نہ گرنے دیں چونکہ وہ اُن کی سیاسی جماعت کے مفاد میں نہیں۔ جب گریڈ ایک سے اوپر تک ہر تعیناتی میرٹ کی بجائے سیاسی مصلحتوں کے تحت کی جائے۔جب سرکاری گاڑیوں، جہازوں، ہیلی کاپٹروں اور مکانوں کی Misuse عروج پر ہو اور جب امیر اور غریب کے طرزِ زندگی اور رہن سہن میں فرق غضب ناک حد تک بڑھ جائے تو پھر کیا لوگ سڑکوں پر نکلنے سے اس لئے اجتناب کرینگے کہ ملک جمہوریت کے جعلی لبادے میں ہے۔آمر کی زیادتیوں کو لوگ برداشت کرسکتے ہیں چونکہ وہ عوامی منتخب نمائندہ نہیں لیکن سیاسی آمر جس کو لوگ قربانیاں دیکر سامنے لائے عوام کے غضب سے کیسے بچ سکتا ہے ذوالفقار بھٹو کی مثال آپ کے سامنے ہے۔ غریب آدمی کو پیٹ بھر کر کھانا ملناچاہئے اس کو اس سے غرض نہیں کہ ملک میں کونسا نظام نافذ ہے اگر اس کا جینا محال کردیا گیا اور اس کے احتجاج کی بھی کسی نے پرواہ نہ کی تو وہ انقلاب کی طرف بڑھے گا۔اللہ نہ کرے ایسی نوبت پاکستان میں آئے چونکہ پاکستان کے جسم کو لالچی حکمرانوں اور بے رحم لٹیروں نے اتنا نوچا ہے کہ اب اس کے کمزور ہڈیوں کے ڈھانچے کو سہارا دینے کیلئے گوشت کی قلیل مقدار بھی موجود نہیں بہرحال حالات پر اب بھی قابو پایا جاسکتا ہے۔بشرطیکہ نیک نیت اور مصمم ارادے کے ساتھ ہماری سیاسی قیادت سامنے آئے اور عوام کے سب دکھوںکا مداوا کرے لیکن افسوس ہے کہ …؎
ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا....... ورنہ ہمیں جو دکھ تھے بہت لادوانہ تھے

No comments:

Post a Comment